السلام عليكم ورحمة الله وبركاته أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. والصلاة والسلام على رسولنا محمد سيد الأولين والآخرين. مدد يا رسول الله، مدد يا سادتي أصحاب رسول الله، مدد يا مشايخنا، دستور مولانا الشيخ عبد الله الفايز الداغستاني، الشيخ محمد ناظم الحقاني. مدد. طريقتنا الصحبة والخير في الجمعية.
إِن تَجۡتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ (4:31)
اللہ، جو بلند و بالا اور عظمت والا ہے، قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: "بڑے گناہوں سے بچو۔"
بڑے گناہ ہیں اور چھوٹے بھی ہیں۔ لیکن سچ میں، اللہ ان سب کو معاف کر دیتا ہے جو توبہ کرتے ہیں۔
وہ فرماتا ہے: "بڑے گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤ۔"
ان چیزوں کے قریب بھی نہ جاؤ جو ان کی طرف لے جائیں۔
وہ فرماتا ہے: "اپنی آنکھوں کو حرام چیزوں سے بچاؤ۔"
اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ جو کچھ آپ کھاتے پیتے ہیں وہ حلال ہو اور دوسروں کے حقوق کی پامالی نہ کرتا ہو۔
اس نکتے پر خاص توجہ دیں۔
کیونکہ جو شخص دوسروں کے حقوق کی پامالی کرتا ہے وہ اور گناہوں کا دروازہ بھی کھولتا ہے۔
کیونکہ دوسروں کے حقوق کی پامالی ایک گناہ ہے، بلکہ بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔
اس دور میں بہت سے مادی اور روحانی خطرات ہیں۔ مادی خطرہ لوگوں کو دھوکہ دینے اور ان کے پیسے ہڑپ کرنے میں ہے۔
روحانی خطرہ یہ ہے کہ ایسے راستے جو اسلام کے مطابق نہیں ہیں، انہیں صحیح بتایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔ جو اس دروازے میں داخل ہوتا ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔
وہ بغیر محسوس کیے گناہ کرتا ہے۔
یہی ہمارے زمانے کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
دنیا کے آغاز سے ایسا کوئی دور نہیں آیا۔
یقینا، ماضی میں بھی ایسا ہوتا تھا۔ وہ کہتے تھے: "میری عبادت کرو، اس کی عبادت کرو، اس کی عبادت کرو۔"
یا تو وہ لوگوں کو مجبور کرتے تھے یا لوگ اس وقت جاہل تھے۔
آج کل ہر کوئی اپنے ہاتھ میں موجود آلے کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔
حالانکہ ہم بالکل اسی 'دوسرے دورِ جاہلیت' میں جی رہے ہیں جس کی طرف ہمارے نبی ﷺ نے اشارہ کیا تھا۔
اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
گناہ انسان کے لیے ایک بوجھ ہے، ایک برائی ہے۔
انسان کو توبہ کرنی چاہیے، معافی مانگنی چاہیے اور صحیح راستے پر واپس آنا چاہیے۔
کیونکہ آج کے دور میں، جیسا کہ کہا گیا ہے، گناہ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
جبکہ نیکی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
اللہ کی فرمانبرداری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
اس لیے انسان کو ہوشیار رہنا چاہیے اور کسی گناہ پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔
کیونکہ اگر کوئی گناہ پر اصرار کرتا ہے تو وہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
لیکن اگر وہ توبہ کرے اور معافی مانگے تو اللہ معاف کر دیتا ہے۔
اللہ ہم سب کو معاف کرے، اللہ ہماری حفاظت کرے۔
اللہ ہم سب کو گناہوں اور برائیوں سے بچائے۔
2025-08-12 - Bedevi Tekkesi, Beylerbeyi, İstanbul
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب کوئی قوم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتی تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے۔"
یعنی اگر لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے تو بارش نہیں ہوتی۔
اور اگر جانور نہ ہوتے تو ان پر ایک قطرہ بارش بھی نہ گرتی۔
یعنی یہ ساری بارش صرف جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
کیونکہ انسانوں میں نہ دین رہا، نہ ایمان رہا، نہ شرم و حیا رہی...
کچھ نہیں بچا۔
اس لیے یہی مناسب تھا کہ ان پر بارش نہ ہو۔
لیکن جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی خاطر اللہ تعالیٰ پھر بھی بارش برساتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”خشک سالی کا مطلب صرف بارش کا نہ ہونا نہیں ہے۔“
یعنی وہ فرماتے ہیں کہ خشک سالی کے لیے ضروری نہیں کہ بارش بالکل بند ہو جائے۔
”حقیقی خشک سالی وہ ہے جب زمین پھل نہ دے، حالانکہ اتنی ہی بارش ہو رہی ہو جتنی پچھلے سالوں میں ہوتی تھی۔“
یعنی بارش ہوتی ہے لیکن فصل نہیں اُگتی۔
سبزیاں اور پھل نہیں پھلتے۔
یہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔
کبھی وہ کیڑے مکوڑے بھیج دیتے ہیں یا کوئی اور آفت آ جاتی ہے۔
پھر بارش ہونے کے باوجود قحط پڑ جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”جب اللہ کسی قوم پر قحط مسلط کرتا ہے تو صرف ان کی اللہ کے سامنے تکبر کی وجہ سے۔“
یعنی وہ ان کی سرکشی کی وجہ سے یہ قحط بھیجتے ہیں۔
آج کل پوری دنیا اللہ عزوجل کو بھول چکی ہے اور اس کی نافرمانی کر رہی ہے۔
ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق کام کر رہا ہے۔ اس لیے ہر جگہ قحط، خشک سالی اور طرح طرح کی مصیبتیں ہیں۔
اور نبی کریم ﷺ نے یہاں صرف قحط کے بارے میں نہیں بلکہ ہر قسم کی مصیبت کے بارے میں فرمایا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”کوئی رات اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں اللہ آسمان سے بارش نہ برساتا ہو۔“
”لیکن اللہ تعالیٰ اس بارش کو وہیں برساتے ہیں جہاں وہ چاہتے ہیں۔“
کبھی کبھی لوگ پوچھتے ہیں: "بارش کیسے ہوتی ہے؟"
گرم پانی بخارات بن کر بادلوں میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر بارش ہوتی ہے۔
یقیناً یہ ایک نظام ہے، ایک اصول ہے جو اللہ رب العزت نے دنیا کے لیے قائم کیا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ ہر وقت بارش برساتے ہیں، لیکن صرف وہیں جہاں وہ چاہتے ہیں۔
وہ وہاں بارش نہیں برساتے جہاں آپ کو ضرورت ہوتی ہے، بلکہ سمندر کے بیچ میں برساتے ہیں۔
وہ سمندر کے بیچ میں بارش برساتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ دعا پر منحصر ہے۔
جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی حدیث میں فرمایا، دنیا میں ہر وقت کہیں نہ کہیں بارش ہو رہی ہوتی ہے۔
کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا جس میں کہیں بارش نہ ہو رہی ہو۔
یقیناً کہیں نہ کہیں بارش ہو رہی ہوتی ہے۔
صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کہاں اور کیسے بارش ہوگی۔
اس لیے یہ بابرکت بارش صرف دعا، التجا اور اللہ کی فرمانبرداری سے حاصل ہوتی ہے۔
اور پھر یہ رحمت بن کر آتی ہے۔
یوں ہی اتفاق سے نہیں...
کیونکہ کبھی کبھی اتنی تیز بارش ہوتی ہے کہ سب کچھ بہہ جاتا ہے، لوگ مرتے ہیں اور گھر ڈوب جاتے ہیں۔
یہ بھی ایک ممکنہ نتیجہ ہے۔
یہاں اللہ رب العزت کی حکمت اور رحمت ظاہر ہوتی ہے۔
اور اس رحمت کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں: "بارش برسا دے۔"
اس طرح کہ: "آج گرمی ہے، تو جلد ہی بارش آئے گی۔"
وہ آسکتی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ رحمت اور برکت کے ساتھ آئے، جیسا کہ اللہ چاہتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”سورج اور چاند کسی کے مرنے یا پیدا ہونے کی وجہ سے گرہن نہیں لگتے۔“
یعنی ہمارے نبی ﷺ وضاحت فرماتے ہیں کہ چاند یا سورج گرہن کا کسی انسان کی زندگی یا موت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
”بلکہ وہ اللہ کی دو نشانیاں (آیات) ہیں جن سے وہ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے۔“
مختصراً، سورج یا چاند گرہن ایک الٰہی علامت ہے جو لوگوں کو اللہ کی یاد دلاتی ہے اور انہیں تقویٰ کی طرف راغب کرتی ہے۔
”جب تم ایسا گرہن دیکھو تو نماز پڑھو اور دعائیں مانگو جب تک کہ وہ ختم نہ ہو جائے۔“
سورج گرہن کے وقت پڑھی جانے والی نماز کو "نمازِ کسوف" کہتے ہیں۔
چاند گرہن کے وقت پڑھی جانے والی نماز کو "نمازِ خسوف" کہتے ہیں۔ گرہن ختم ہونے تک نماز پڑھنا اور دعائیں مانگنا سنت ہے۔
یہ عبادت کی ایک ایسی صورت ہے جو سنت ہے اور اس میں بہت برکت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب سورج اور چاند اللہ کی عظمت کا اظہار دیکھتے ہیں تو وہ اپنے راستے سے ہٹ جاتے ہیں اور گرہن لگ جاتا ہے۔"
اس کا مطلب ہے کہ یہ گرہن ہمیشہ نہیں ہوتے، بلکہ کبھی کبھار ہوتے ہیں۔
یہ صرف وقتاً فوقتاً ہوتا ہے۔
کیونکہ چاند اور سورج بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ اس کی عظمت کو جانتے ہیں۔
وہ اپنے رب کو انسانوں سے بہتر جانتے ہیں۔
یہ گرہن اللہ کی عظمت کے سامنے ان کے خوف و خشیت کا نتیجہ ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”جب سورج یا چاند گرہن لگے تو ایسی نماز پڑھو جیسی تم نے اپنی آخری فرض نماز پڑھی تھی۔“
یعنی تمہیں یہ نماز اسی طرح خشوع و خضوع سے ادا کرنی چاہیے جیسے تم نے اپنی آخری فرض نماز ادا کی تھی۔
یہ نمازیں طویل ہوتی ہیں۔
ان کا طریقہ سنت میں بیان کیا گیا ہے۔
نماز کو بہت لمبا کیا جاتا ہے۔
لمبی سورتیں پڑھی جاتی ہیں، اور رکوع اور سجدے معمول سے زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔
نماز کے بعد باقی وقت تسبیح، تحلیل اور دعاؤں میں گزارا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو۔"
یعنی اگر تم کسی بڑے واقعے کے گواہ بنو جو اللہ کی عظمت کو ظاہر کرتا ہو تو تمہیں سجدہ کرنا چاہیے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
2025-08-11 - Dergah, Akbaba, İstanbul
لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ (42:11)
اللہ، جو بلند و برتر ہے، فرماتا ہے کہ اس کی مانند کوئی نہیں ہے۔
اس کی ذات ہر قسم کے تصور اور عقل کی گرفت سے بالاتر ہے۔
اسی وجہ سے ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کی ذات کے بارے میں غور و فکر نہ کرو۔''
اس کی بجائے اس کی قدرت، اس کی تخلیقات اور اس کے کاموں کا مشاہدہ کرو۔
صرف انہی پر غور و فکر کرنا تمہارے ذہنوں کو اپنی انتہا تک لے جائے گا۔
یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جسے آسانی سے سمجھا جا سکے۔
اللہ، جو بلند و برتر ہے، مقام اور وقت سے بالاتر ہے۔
اس کے لیے نہ کوئی جگہ ہے اور نہ ہی کوئی وقت۔
کیونکہ یہ سب مخلوقات ہیں جو اس کے بعد پیدا ہوئی ہیں۔
درحقیقت یہ اللہ ہی ہے، جو بلند و برتر ہے، جس نے وقت اور جگہ کو پیدا کیا ہے۔
خالق اپنی مخلوق کا حصہ نہیں بن سکتا۔ یہ ناممکن ہے۔
اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔
آج کل کچھ لوگ دوسروں کو جلدی سے ''مشرک'' یا ''کافر'' کہہ دیتے ہیں۔
وہ اللہ، جو بلند و برتر ہے، کے لیے جگہ اور جسم کا تصور کرتے ہیں۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں، اللہ ہم سب کو اس سے بچائے، وہ کفر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے جسم یا وزن کا تصور کرتا ہے، یا یہ کہتا ہے کہ وہ کسی خاص جگہ یا وقت میں ہے، یہاں یا وہاں، تو وہ اپنا ایمان کھو بیٹھتا ہے۔
اللہ، جو بلند و برتر ہے، کسی کے مانند نہیں ہے۔
اس بات کو اپنے دل میں اتار لینا چاہیے۔
وقت اور جگہ دونوں ہی اس کی تخلیقات ہیں۔
پوری کائنات کا خالق اللہ ہے، جو بلند و برتر ہے۔
اور اس کی تخلیقی قوت مسلسل جاری ہے۔
ایک مومن کو اللہ، جو بلند و برتر ہے، کے ساتھ مناسب ادب کا خیال رکھنا چاہیے۔
اسے ان اصولوں کو جاننا چاہیے جو ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں بتائے اور سکھائے ہیں۔
جو کوئی ان کی پیروی کرے گا، اللہ کے فضل سے نجات پائے گا۔
لیکن جو کوئی اس راستے سے ہٹ جائے گا، اس کا ایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔
اور آخر میں، اللہ ہم سب کو اس سے بچائے، وہ بغیر ایمان کے اس دنیا سے چلا جائے گا۔
اسی لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیدھے راستے پر چلتا رہے۔
آج کل ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو جھوٹے دعوے کرتے ہیں اور جاہل لوگ ان پر یقین کر لیتے ہیں بغیر سمجھے کہ اصل معاملہ کیا ہے۔
جبکہ طریقت کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے۔
یہ ادب کا راستہ، علم کا راستہ اور اللہ کی معرفت کا راستہ ہے۔
اس راستے کی برکت اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والے یقین کی وجہ سے، ایک شخص اپنی آخری سانس تک مومن رہتا ہے اور مومن ہی کی حیثیت سے اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔
کیونکہ یہ راستہ ہمارے نبی ﷺ کا راستہ ہے۔
ان کا دکھایا ہوا راستہ نجات کا راستہ ہے۔
اللہ ہمیں ہر برائی، فتنے اور گمراہی سے بچائے۔
آمین۔
اللہ ہمیں اچھے کو برا اور برے کو اچھا نہ دکھائے، انشاءاللہ۔
وہ ہمیں برے کو برا اور اچھے کو اچھا پہچاننے کی توفیق دے۔
اللہ ہمیں سیدھے راستے سے نہ بھٹکائے۔
2025-08-10 - Dergah, Akbaba, İstanbul
ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ، جو کہ قادرِ مطلق اور بلند مرتبہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے فرماتا ہے:
كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ
اس کا مطلب ہے: "آدم کی تمام اولاد غلطیاں کرتی ہے، وہ گنہگار ہیں۔"
وہ لوگ جو سب سے زیادہ غلطیاں اور گناہ کرتے ہیں، وہ انسان ہی ہیں - ہم سب۔
کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ ہر انسان میں غلطیاں، بھول چوک اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔
کوئی بھی انسان بے عیب نہیں ہے۔
ہم سب میں غلطیاں، کمزوریاں اور گناہ ہیں۔
تاہم، انبیاء علیہم السلام اس اصول سے مستثنیٰ ہیں؛ ان کا معاملہ مختلف ہے۔
اساساً، تمام انسان غلطیاں کرتے ہیں اور گناہ کرتے ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ، جو کہ قادرِ مطلق اور بلند مرتبہ ہے، اس بارے میں فرماتا ہے: "اور میں بہت بخشنے والا ہوں۔"
"صرف انہیں معافی مانگنی چاہیے، اور میں انہیں معاف کر دوں گا۔"
"چاہے ان کے کتنے ہی گناہ ہوں، انہیں مجھ سے معافی اور بخشش مانگنی چاہیے، اور میں انہیں معاف کر دوں گا۔"
اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی انسان گناہوں سے پاک نہیں ہے۔
کچھ لوگ سوچتے ہیں: "میں نے اتنے گناہ کیے ہیں کہ اب نیک کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔" لیکن یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ، جو کہ قادرِ مطلق اور بلند مرتبہ ہے، کا یہ مبارک کلام ایک رحمت ہے جو تمام انسانوں کے لیے ہے۔
رحمت کا دروازہ، بخشش کا دروازہ، کھلا ہوا ہے۔
یہ بخشش کا دروازہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے - جو کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
اس لیے، چاہے آپ نے کتنے ہی گناہ کیے ہوں، اللہ معاف کر دیتا ہے۔
انسان کو روزانہ اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
کیونکہ جب بندہ معافی مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کر سکتا ہے۔
چونکہ آپ نے معافی مانگی ہے، اللہ تعالیٰ، جو کہ قادرِ مطلق اور بلند مرتبہ ہے، نہ صرف آپ کے گناہوں کو مٹا دے گا بلکہ ان کی جگہ آپ کو اجر اور نیکیاں بھی عطا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ، جو کہ قادرِ مطلق اور بلند مرتبہ ہے، کا فضل و کرم لامحدود ہے۔
لیکن اکثر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔
وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔
جبکہ اصل قدر اسی میں ہے۔
اللہ ہم سب کو معاف کرے، ان شاء اللہ۔
2025-08-09 - Dergah, Akbaba, İstanbul
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِخۡوَةٞ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَ أَخَوَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ (49:10)
اللہ، عزوجل، فرماتا ہے: "یقیناً مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
ایمان کی برادری، خونی رشتے سے بھی زیادہ اہم ہے۔
کیونکہ ہمارے نبی ﷺ کے زمانے میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ صحابہ کرام مسلمان ہوتے تھے جبکہ ان کے اپنے سگے بھائی کافر ہوتے تھے۔
اس وقت برادری کی اہمیت آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔
آج کل لوگ اکثر اس رشتے کو اتنی اہمیت نہیں دیتے، لیکن اس وقت یہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔
اصل میں باپ اور سگے بھائی بہن زندگی میں سب سے اہم لوگ ہوتے تھے، لیکن اسلام میں داخل ہونے کے بعد یہ ترجیحات بدل گئیں۔
کیونکہ جو چیز واقعی اہمیت رکھتی ہے وہ اللہ کی راہ میں برادری ہے۔
اور اللہ تعالیٰ اسی برادری پر زور دیتا ہے۔
مومن، مسلمان، آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ انہیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اور ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے۔
نبی کریم ﷺ ایک حدیث مبارکہ میں فرماتے ہیں: "ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کے خلاف بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو۔"
ایک مسلمان کو اپنے بھائی کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے، جہاں تک وہ کر سکتا ہے۔
یقیناً وہ ہر معاملے میں مدد نہیں کر سکتا، لیکن جہاں تک ہو سکے اسے مدد کرنی چاہیے۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کی مدد کی جائے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کا دفاع کیا جائے۔
نبی کریم ﷺ ہمیں سکھاتے ہیں کہ جو مومن اپنے بھائی کا اس کی غیر موجودگی میں دفاع کرتا ہے، اسے بہت بڑا اجر ملتا ہے۔
بدقسمتی سے آج کل لوگ ایک دوسرے پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔
لہذا جو اپنے بھائی کو ایسے الزامات سے بچاتا ہے، اسے بہت بڑا اجر ملے گا۔
کیونکہ انسان دوسروں کے بارے میں برے گمان کرنے کا عادی ہوتا ہے۔
اور ایسے گمان دشمنی، بغض اور نفاق کے سوا کچھ نہیں بوتے۔
اور اسی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
اس طرح ایمان کی یہ برادری، سگے بھائی سے زیادہ قیمتی ہے جو سیدھے راستے پر نہیں ہے۔
مومنوں کے درمیان صلح کرانا اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
اور اللہ کی یہ رحمت سب سے اہم چیز ہے۔
لوگ اکثر مادی فوائد کے پیچھے بھاگتے ہیں۔
جبکہ اللہ کی رحمت اور کرم سب سے قیمتی چیز ہے جو انسان حاصل کر سکتا ہے۔
لیکن بہت سے لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور اس کی حقیقی اہمیت کو نہیں پہچانتے۔
اللہ ہمارے دلوں میں محبت ڈال دے۔
اللہ ہم سب کی مدد کرے، انشاء اللہ۔
شیطان ہمارے درمیان نفاق نہ ڈالے۔
2025-08-08 - Dergah, Akbaba, İstanbul
وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةً أَوۡ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ ذَكَرُواْ ٱللَّهَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ لِذُنُوبِهِمۡ (3:135)
اللہ، جو سب سے زیادہ طاقتور اور بلند و بالا ہے، فرماتا ہے:
اگر کوئی شخص کوئی گناہ کرتا ہے، لیکن اس پر اصرار نہیں کرتا، تو اللہ اسے معاف کر دے گا۔
اللہ بہت بخشنے والا ہے۔
جو شخص اپنے گناہوں پر توبہ کرتا ہے، اسے اللہ کی بخشش مل جاتی ہے۔
لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے اور اس پر اصرار کرتا ہے، تو اس نے اپنی سزا خود لکھ لی ہے۔
اب کچھ لوگ ایسے ہیں،
جنہوں نے بعض لوگوں کی پیروی کی اور غلطیاں کیں۔
لیکن اس غلطی پر قائم رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہیں اللہ کے راستے پر واپس آ جانا چاہیے تاکہ اللہ انہیں بھی معاف کر دے۔
جو شخص مشکوک لوگوں کی پیروی کرتا ہے، انہیں ہدایت یافتہ سمجھتا ہے اور اس وجہ سے راہ سے بھٹک جاتا ہے، اسے یقینی طور پر سزا ملے گی۔
اس لیے اللہ، جو سب سے زیادہ طاقتور اور بلند و بالا ہے، حکم دیتا ہے: "اللہ کی طرف بھاگو۔"
فَفِرُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۖ (51:50)
اللہ، جو سب سے زیادہ طاقتور اور بلند و بالا ہے، حکم دیتا ہے: "اللہ کی پناہ مانگو۔"
غلط پر اصرار نہ کرو۔
اللہ نے ہر ایک کو عقل اور آزاد مرضی دی ہے۔
کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ دوسروں کو ستا کر کوئی فائدہ یا اجر حاصل کر سکتا ہے۔
اسلام میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
تمہیں اسلام کے راستے پر چلنا چاہیے، چاہے یہ تمہارے نفس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ تمہیں اس کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں۔
کیونکہ نفس ہمیشہ برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔
لیکن ایسے راستے بھی ہیں جو اس سے بھی بدتر ہیں۔
اگر تم صحیح راستے پر ہو تو تمہارا نفس ہزار بار کوشش کرے گا کہ تمہیں اس سے ہٹا دے۔
یہ تمہارے کانوں میں وسوسے ڈالتا ہے جیسے: "کیا یہ آدمی سچ کہہ رہا ہے؟ کیا وہ اچھا ہے یا برا؟"
لیکن اگر تم کسی برے شخص کی پیروی کرو گے تو تمہارا نفس فوراً تمہاری حمایت کرے گا اور تمہیں اس پر یقین کرنے کی ترغیب دے گا۔
اس لیے صحیح راستہ اللہ کا راستہ ہے، جو سب سے زیادہ طاقتور اور بلند و بالا ہے۔
الحمدللہ، طریقت کا راستہ بھی یہی راستہ دکھاتا ہے۔
لیکن جو لوگ طریقت سے باہر ہیں وہ اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں۔
چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔
کوئی شخص شاید کسی کی پیروی کرے اور کہے: "وہ ایک بہت بڑا عالم ہے۔"
لیکن حقیقت میں اس کے پاس بنیاد نہیں ہے۔
کیونکہ جس کا کوئی مرشد نہیں اس کا مرشد شیطان ہے۔
کسی مرشد کی پیروی کرنے کا مطلب ہے کسی طریقت کی پیروی کرنا، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
اس پر توجہ دینی چاہیے۔
جو لوگ راہ سے بھٹک گئے ہیں انہیں توبہ کرنی چاہیے اور اللہ کی پناہ لینی چاہیے۔
اللہ معاف کرتا ہے۔
اللہ بہت بخشنے والا ہے۔
اصرار نہ کرو۔
ضد اور ہٹ دھرمی کفر کی علامت ہے۔
کفر ہٹ دھرمی سے عبارت ہے۔
ہمارے نبی ﷺ کے زمانے کے کافر قریش جانتے تھے کہ یہ سچ ہے، لیکن غرور اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایمان نہیں لائے۔
انہوں نے اپنی آخری سانس تک بھی ایمان نہیں لایا۔
یہاں تک کہ ابو جہل نے بھی، جب وہ جنگ بدر میں مرتے وقت تھا، کہا:
میں جانتا ہوں کہ یہ مذہب حق ہے، لیکن میں اسے قبول نہیں کرتا۔
یہ اس نے محض غرور کی وجہ سے کیا۔
اس طرح وہ بدترین انجام کو پہنچا۔
اس لیے لوگوں کو اس کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔
انشاءاللہ، وہ صحیح راستے پر واپس آ جائیں۔
اللہ ہم سب کو معاف کرے۔
اللہ ہمیں سیدھے راستے سے نہ بھٹکائے۔
2025-08-07 - Dergah, Akbaba, İstanbul
اور یہ کہ بیشک کچھ آدمی جنوں سے پناہ مانگتے تھے، تو یہ اور زیادہ ان کے خوف میں اضافہ کرتے تھے۔ (72:6)
کہا جاتا ہے کہ جنات اور انسانوں کے درمیان ایک تعلق ہے۔ یہ تعلق بعض حالات میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
آج کل کچھ لوگ دوسروں کو یہ کہہ کر خوفزدہ کرتے ہیں: "تم پر جن چڑھا ہوا ہے، تم پر جادو ہوا ہے۔"
یہ پہچاننا یا جاننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
یہ ایک نایاب عطیہ ہے۔
لیکن یقیناً ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی جن کسی انسان پر قابض ہو جائے۔
تاہم، جسے "چھینک" کہتے ہیں، وہ بالکل ہو سکتا ہے۔
ایسی "چھینک"، اللہ بچائے، تب ہو سکتی ہے جب کوئی رات کو پانی بہائے، یا بغیر "دستور" یعنی اجازت مانگے رفع حاجت کرے۔
لیکن ہر کسی کو یہ کہنا: "تم پر جادو ہوا ہے، جن چڑھا ہوا ہے"، لوگوں کو صرف خوفزدہ کرتا ہے۔
اگر کوئی اپنے مفاد کے لیے ایسا دعویٰ کرتا ہے، تو یہ جھوٹ ہے۔
اس سے وہ نہ صرف گناہ کرتا ہے، بلکہ دوسرے کے دکھ کی ذمہ داری بھی اپنے سر لیتا ہے، کیونکہ وہ اسے خوفزدہ کرتا ہے۔
آج کے دور میں ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو جن سے زیادہ سیدھے راستے سے بھٹکا دیتی ہیں: ہمارا سماجی ماحول اور ہمارے حالات زندگی۔
یہ گھر میں جھگڑے کا سبب بنتے ہیں اور بچوں کو اپنے والدین کے خلاف بغاوت پر اکساتے ہیں۔
ایسے حالات جنات یا جادو کا کام نہیں ہیں، بلکہ ان بیرونی اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
اللہ ہمیں اس سے بچائے۔
ان آلات میں جو بچوں کے ہاتھوں میں ہیں، اس موجودہ ٹیکنالوجی میں، گویا ہزاروں جنات ہیں۔ وہ چیزیں جو واقعی عقل کو لوٹ لیتی ہیں اور لوگوں کو بگاڑ دیتی ہیں، زیادہ تر وہیں سے آتی ہیں۔
اس برائی، ٹیکنالوجی سے، بعض اوقات کسی جن یا شیطان سے بھی بدتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
اس پر توجہ دینا ضروری ہے۔
اللہ نے انسان کو عقل دی ہے، اور اس عقل کی اپنی حدود ہیں۔
ہر کام اعتدال اور صحیح طریقے سے کرنا چاہیے تاکہ روح کو نقصان نہ پہنچے۔
اگر آپ ہر کام ایک ساتھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ذہن پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں، تو یہ بھی آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جادو یا جنات کو فوراً الزام دینا سب سے آسان راستہ ہے؛ اس طرح آپ اپنی ذمہ داری سے بچ جاتے ہیں۔
صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے: "میں کیا کروں، حضور دعا کریں۔"
یقیناً اپنے لیے دعا کروانا مفید ہے۔ لیکن حضور کے پاس جانے سے پہلے، خود گھر میں دعا کرنی چاہیے، ضروری نمازیں پڑھنی چاہییں اور خیرات دینی چاہیے۔ آخر کار، آیت الکرسی یا سورۃ اخلاص پڑھنا ہر کوئی خود کر سکتا ہے۔
ہر طرح کی برائی جیسے حسد، بری نظر، جن اور جادو کے خلاف روزانہ سات بار آیت الکرسی پڑھ کر اپنے اوپر دم کرنا چاہیے۔ گھر سے نکلتے وقت تین بار سورۃ اخلاص، ایک بار سورۃ فلق اور ایک بار سورۃ الناس پڑھنی چاہیے اور گھر واپس آتے وقت یہی دہرانا چاہیے۔
گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا بھی ایک حفاظت ہے۔ یہ گھر والوں کی ہدایت کا باعث بنتا ہے اور خاندان میں امن لاتا ہے، انشاء اللہ۔
ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہ بہت مشکل ہے۔
اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
لوگ، نوجوان، سب بہت بدل گئے ہیں۔ شائستگی اور احترام ختم ہو گئے ہیں۔ کوئی کسی کی نصیحت نہیں سنتا؛ ایک کان سے اندر جاتی ہے اور دوسرے سے باہر نکل جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان پر کوئی مصیبت آ جائے۔
اور اگر مصیبت آ بھی جائے تو انہیں سمجھ نہیں آتی کہ یہ کہاں سے آئی ہے۔
اللہ کی اجازت سے ایسی مشکلات سے بچنے کا راستہ عبادت اور دعا ہے۔ اگر ہر کوئی خیرات دے، آتے جاتے سلام کرے اور حفاظتی سورتیں پڑھے، تو انشاء اللہ یہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے ایک ڈھال بن جائے گا۔
اللہ ہم سب کی حفاظت کرے۔
اللہ ہمارے بچوں اور خاندانوں کی حفاظت کرے اور انہیں شیطان کی برائی اور ہر قسم کی برائی سے بچائے۔
2025-08-06 - Dergah, Akbaba, İstanbul
ہم نے اولیاء کرام کی زیارت کی ہے۔
کیونکہ اولیاء اللہ کی روحانی قوت ان کے مزارات پر زائرین کے لیے محسوس ہوتی ہے۔
الحمدللہ کہ ہمیں یہ زیارت نصیب ہوئی۔
ہم تین چار دن استنبول سے باہر اولیاء کرام کی زیارت کے لیے گئے تھے۔
یہ سفر، بہن بھائیوں سے دور، ایک ایسی چھوٹی سی خلوت بھی تھی جس کی انسان کو کبھی کبھی غور و فکر کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کرام کو اکثر پہاڑوں میں، چوٹیوں پر جگہ دی ہے۔
اگر آپ اکثر اولیاء کرام کو دیکھیں تو ان کی قبریں اور مزارات پہاڑوں پر ہیں۔
کیونکہ پہاڑوں کی ایک گہری معنویت ہے۔
پہاڑ بہت اہمیت کے حامل ہیں؛ دنیا اور دین دونوں کے لیے۔
ہمارے نبی ﷺ بھی اپنی بعثت سے پہلے، یعنی وحی آنے سے پہلے، مکہ مکرمہ کے اوپر واقع نور کے پہاڑ پر غار حرا میں عبادت کے لیے جایا کرتے تھے۔
دنوں، کبھی کبھی پورے مہینے، وہ اس پہاڑی چوٹی پر قیام فرماتے۔
ان پہاڑوں میں ایک راز، ایک خاص حکمت ہے۔
وہاں الہی تجلیات اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
اس لیے ہماری یہ زیارت بھی، ان شاء اللہ، انبیاء کرام کی سنت پر عمل کرنے کی ایک کوشش تھی۔
اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
ان شاء اللہ، اس کا خیر ہو۔
ان شاء اللہ، اس سے ہماری دعائیں قبول ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کو مضبوط کرے۔
وہ ہمیں، ان شاء اللہ، وہ تمام بھلائیاں عطا فرمائے جو ہمارے ایمان کو مضبوط کرتی ہیں۔
کیونکہ مسلسل شکر گزاری اور دعا سے نیکی، برکت اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ ہم خیریت سے واپس آگئے۔
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔
ان شاء اللہ اس سے ہمیں اور ہمارے تمام بہن بھائیوں کو برکت، سکون اور شفا نصیب ہو۔
2025-08-02 - Dergah, Akbaba, İstanbul
ایک دانشمندانہ کہاوت ہے: "ہمت الرجال تقلا الجبال۔" اس کا مطلب ہے کہ نیک لوگوں کا عزم پہاڑوں کو ہلا دیتا ہے۔
جب تک انسان میں کافی عزم ہو، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آسکتی۔
اللہ کی اجازت سے وہ جو چاہے حاصل کر سکتا ہے۔
مگر یہ ارادہ بھلائی کے لیے ہونا چاہیے۔
کیونکہ انسان کے لیے برائی کرنا بھلائی کرنے سے آسان ہے۔
بھلائی کرنا، اس کے برعکس، بہت زیادہ مشکل ہے۔
ایسا کیوں ہے؟
کیونکہ شیطان، نفس اور معاشرہ، جب بھی انسان بھلائی کرنے کا ارادہ کرتا ہے، اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج کی دنیا کا یہی حال ہے۔
جبکہ بھلائی کو حقیر سمجھا جاتا ہے اور اس میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں،
برائی کو سراہا جاتا ہے اور اسے معمول کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب برائی کو برائی کہنا بھی منع ہے۔
کیونکہ زیادہ تر لوگوں نے برائی کا ساتھ دے دیا ہے۔ انہیں برائی کو "بھلائی" کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور وہ اسے مان گئے ہیں۔
اگرچہ وہ ایک پاک اور اچھی زندگی گزار سکتے ہیں، جیسا کہ ایک انسان کے شایانِ شان ہے، لیکن وہ اس کے بالکل برعکس کا انتخاب کرتے ہیں۔
اور وہ اس انتخاب کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے یہ کوئی بڑی کامیابی ہو۔
لیکن وہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے۔
گویا یہ کافی نہیں،
وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے جب معاشرے میں ایک اقلیت ایک شائستہ زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہے۔
وہ دباؤ ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں: "تمہیں بھی ہماری طرح بننا ہوگا۔"
یہ صورتحال اس چیز کی یاد دلاتی ہے جو گزرے ہوئے نبیوں نے بھی دیکھی ہے۔ جب کوئی نبی لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے آتا تھا تو اسے اکثر مسترد کر دیا جاتا تھا۔
بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ اس سے دشمنی کرنے لگتے اور کہتے: "تجھے کیا حق ہے کہ تو ہمیں بھلائی اور اچھائی کا حکم دے؟
ہمیں یہاں ایسے شخص کی ضرورت نہیں!"
اللہ ہماری حفاظت کرے - ہمارا زمانہ بھی انہی دنوں جیسا ہو گیا ہے۔
جی ہاں، بھلائی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
لیکن جتنا مشکل کوئی عمل ہوگا، اتنا ہی اس کا اجر اللہ کے ہاں زیادہ ہوگا۔
اسی لیے اللہ کے راستے پر چلنے والا بندہ اس بات سے متاثر نہیں ہوتا کہ دوسرے کیا کہتے یا کرتے ہیں۔
اس کے لیے صرف اللہ کا حکم اہمیت رکھتا ہے۔
اگرچہ پوری دنیا اس کے خلاف ہو اور وہ اکیلا کھڑا ہو، تب بھی اس پر فرض ہے کہ وہ صحیح کام کرے۔
لوگوں کی ملامت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
اصل قدر اس نیک عمل میں ہے جو تمام رکاوٹوں کے باوجود کیا جاتا ہے۔
اور جیسا کہ کہا گیا ہے: بھلائی کرنے میں جتنی زیادہ مشقت ہوگی، اتنا ہی زیادہ اجر ملے گا۔
اللہ ہم سب کو آسانی عطا فرمائے اور لوگوں کو ہدایت دے۔
کیونکہ بہت سے لوگ اپنے کیے ہوئے برے کاموں اور گناہوں کو غلطی سے بھلائی سمجھتے ہیں۔
وہ خود کو یہ کہہ کر مطمئن کرتے ہیں: "زندگی ایسی ہی ہے، یہ تو معمول کی بات ہے۔"
حالانکہ انسان کو عقل و فہم دیا گیا ہے۔
اور اللہ کے احکام بالکل واضح ہیں۔
لہٰذا ان احکام کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
جو ایسا نہیں کرتا اسے صرف مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ صرف نقصان ہوتا ہے۔
اللہ ہم سب کی حفاظت کرے۔
اللہ تمام انسانیت کو ہدایت عطا فرمائے۔
2025-08-01 - Dergah, Akbaba, İstanbul
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِدٗا وَمُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا (33:45)
وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذۡنِهِۦ وَسِرَاجٗا مُّنِيرٗا (33:46)
اللہ، جو بلند و بالا اور عظیم ہے، نبیﷺ پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے، انہیں عزت بخشتا ہے۔
وہ ان کی قدر کرتا ہے۔
وہ فرماتا ہے: "ہم نے تمہیں بھیجا ہے ..."
اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے، کو تمام انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
اس نے انہیں لوگوں کے لیے نور اور رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ ہر نعمت اور ہر بھلائی ہمیں نبیﷺ کی وجہ سے ملتی ہے، اللہ ان پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔
ان کا راستہ نور کا راستہ ہے۔
جو ان کے راستے پر نہیں چلتا وہ بدبختی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
جو انہیں عزت نہیں دیتا وہ دھوکے میں ہے۔
چاہے آپ ان کی کتنی ہی عزت کریں، یہ ہمیشہ مناسب ہے۔
قصیدہ بردہ میں امام بوصیری کہتے ہیں: "جب تک تم وہ دعویٰ نہ کرو جو عیسائی اپنے نبی کے بارے میں کرتے ہیں، ان کی تعریف اور مدح کرو جتنی چاہو۔"
نبیﷺ کی مدح کرنے کی کوئی حد نہیں، اللہ ان پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔
اس چیز سے محبت کرو جس سے شیطان نفرت کرتا ہے۔
کیونکہ جس چیز سے شیطان نفرت کرتا ہے وہ نبیﷺ کی تعریف، ان کی عزت اور ان سے محبت کرنا ہے، اللہ ان پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے وہ نفرت کرتا ہے۔
وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے کہہ کر: "تم غلطی کر رہے ہو۔"
وہ ان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے: "اللہ کے سوا کسی کی تعریف اور مدح نہیں کی جا سکتی۔"
جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود نبیﷺ کو عزت بخشی ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بھی ایسا ہی کریں، اللہ ان پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔
اس نے حکم دیا ہے: "ان کی عزت کرو، ان سے محبت کرو، ان کا احترام کرو۔"
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "میں نے سب کچھ ان کی خاطر پیدا کیا ہے۔"
اگر لوگ ان کی عزت نہیں کرتے تو وہ ناشکری کرتے ہیں۔
اگر کوئی مسلمان ان کی عزت نہیں کرتا تو یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔
یہ حالت اس کے ایمان کے لیے خطرناک ہے۔
جن لوگوں نے ان کی عزت نہیں کی ان کا کبھی بھلا نہیں ہوا۔
ان کے راستے نیست و نابود ہو گئے، ان کے نشانات مٹ گئے۔
اگرچہ شیطان انہیں نئے راستے دکھاتا ہے، لیکن وہ راستہ جس پر وہ چلے کبھی قائم نہیں رہا۔
شیطان یقینی طور پر آرام نہیں کرتا، لیکن ایک مومن بھی کبھی نبیﷺ کی عزت کرنے سے باز نہیں آئے گا، اللہ ان پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔
یہ بابرکت جمعہ بھی ہمیں نبیﷺ کی عزت کے لیے دیا گیا ہے، اللہ ان پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔
جمعہ اس امت کے لیے سب سے افضل دن ہے، سب سے زیادہ ثواب والا دن ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب دن ہے۔
یہ نعمت بھی نبیﷺ اور ان کی امت کو ملی ہے، اللہ ان پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔
اللہ کا شکر ہے۔
نعمتوں کا شکر ادا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ زیادہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ایمان اور نبیﷺ سے محبت ہے، اللہ ان پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرمائے۔
اس نعمت کا بھی شکر ادا کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ اسے ہم پر قائم رکھے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس راستے سے نہ بھٹکائے، انشاء اللہ۔